مرکزِ توجہ

پاکستان کے ایک کروڑ لوگوں پر اثر انداز ہوئی ہے۔  Hepatitis Cپاکستان میڈیکل اینڈ ریسرچ کونسل کے شائع کردہ اعداد وشمار کے مطابق کے

 جس میں پنجاب میں 6.7فیصدٗ سندھ میں 5 فیصد بلوچستان میں 1.5 فیصدٗ اور خیبر پختو نخواہ میں 1.1 فیصد ہے سے متاثر ہوئی ہے Hepatitis Cپاکستان کی 5 فیصد آبادی

 کو جگر کی تشویشناک بیماریاں ہیں اور بہت سے جگر کے کینسر کے شدید خطرے سے دوچار ہیں۔ جینو ٹائپ 3  سب سے زیادہ پھیلنے   جو کہ کل تقریباً ایک کروڑ لوگ بنتےہیں۔(مزید پڑھیے ) جس میں آبادی کی بڑی

کے انفیکشن کے 80 سے 85 فیصد واقعات کا باعث بنتی ہے۔Cوالی جینو ٹائپ ہے جو پاکستان میں ہیپاٹائٹس

انفیکشن کے زیادہ تر واقعات ماضی میں یرقان یا جگر کی بیماریوں  Hepatitis C خون اور جسمانی رطوبتوں سے پھلتی ہے۔  Hepatitis C

کے ریکارڈ کے بغیر رونما ہوئے ہیں۔ زیادہ تر مریضوں میں غنودگی یا کمزوری کی شکایات پائی گئی ہیں۔ 20 سے 30 فیصد

کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ یہ ایک سست روی سے زور پکڑنے  Hepatitis C واقعات میں شدید انفیکشن ختم ہو جاتی ہے جبکہ باقی واقعات میں یہ دائمی

والی بیماری ہے اور 25  فیصد واقعات میں یہ دس سال کے بعد جگر کے دائمی امراض کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اور 25  فیصد واقعات میں اگلے مزیددس

سالوں میں یہ انتہائی شدت اختیار کر لیتی ہے۔ پاکستان میں وائرس کی ترسیل کو روکنے کی ضرورت ہے جو کہ زیادہ ترسرنج کو دوبارہ استعمال کرنے،

آلودہ  آلات اور ہسپتال کے مضر صحت ماحول سے پھیلتا ہے۔ خون اور جسمانی رطوبتوں کی بغیر باقاعدہ معائنہ کے ترسیل پر

   والی ادویات  ہی دسیتاب تھیں( Interferon  alpha with ribavirinاور  Sovaldi ( Sofosbuvir)  بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔  پہلی اورل تھراپی کی آمد سے پہلے تک پاکستان میں صرف  

مریض کے نام پر منگوائی گئی۔ Sovaldi ( Sofosbuvir ) کے تحت ، پہلی دفعہAccess Program Partnership کے ساتھ Gileads Sciences  Inc پاکستان میں اگست 2014 میں